دنیا بھر سے آنے والے 15 لاکھ سے زائد مسلمان پیر کے روز مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے جہاں حج 2026 کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ اس سال حج ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کے خدشات پر عالمی توجہ مرکوز ہے، تاہم زائرین امن کی امید کے ساتھ عبادات میں مصروف ہیں۔
حجاج کرام نے مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا طواف مکمل کرنے کے بعد منیٰ کا رخ کیا۔ اس کے علاوہ صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانے کی رسم بھی ادا کی گئی۔ سعودی حکام نے لاکھوں زائرین کی سہولت اور حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
اس سال حج 2026 ایران اور خلیجی خطے میں جاری سیاسی تناؤ کے دوران منعقد ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق عالمی سطح پر ہونے والی بات چیت نے حج کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سعودی حکام کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے عازمین کی تعداد گزشتہ سال سے زیادہ رہی۔
سعودی حکومت نے حج 2026 کے دوران مکمل سکیورٹی تیاریوں کا بھی اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مقدس مقامات کے اطراف فضائی دفاعی نظام دکھائے گئے۔ حکام نے کہا کہ حجاج کی حفاظت اور پرامن ماحول کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔
مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین نے خطے میں امن کی خواہش کا اظہار کیا۔ مصری حاجی محمد شہادہ نے کہا کہ جنگیں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں اور لوگ امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ سیاسی حالات کے باوجود مکہ مکرمہ میں روحانی ماحول برقرار ہے۔
حج کے دوران کئی اہم عبادات ادا کی جاتی ہیں جو کئی دنوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مرد سفید احرام پہنتے ہیں جو مساوات اور اتحاد کی علامت ہے، جبکہ خواتین سادہ لباس اختیار کرتی ہیں۔ حج کا اہم ترین مرحلہ میدان عرفات میں ہوتا ہے جہاں حضور نبی کریم ﷺ نے آخری خطبہ دیا تھا۔
بہت سے زائرین نے حج 2026 کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب قرار دیا۔ مراکش سے آئے جریش محمد نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے حج کی خواہش رکھتے تھے۔ شدید گرمی اور علاقائی کشیدگی کے باوجود حجاج عبادات اور روحانی سفر میں پوری عقیدت کے ساتھ شریک ہیں۔