پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صارفین کو سستے متبادل کی طرف مائل کر دیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد عوام کی بڑی تعداد الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی مانگ اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مقامی مارکیٹ میں اسٹاک ختم ہونے لگا ہے۔ خریدار جلد ڈلیوری کے لیے 10 ہزار سے 15 ہزار روپے تک “اون منی” ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
مشہور ماڈلز جیسے T5-L، ویلاکس اور M3-H کی سپلائی متاثر ہوئی ہے کیونکہ CKD کٹس کی دستیابی محدود ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ کے مقابلے میں سپلائی ناکافی ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف اپریل میں تقریباً 40 ہزار یونٹس فروخت ہوئے، جن میں 90 فیصد اسکوٹرز اور 10 فیصد بائیکس شامل تھیں۔ تاہم اصل مانگ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ چین سے CKD کٹس کی درآمد بڑھانے کے لیے آرڈرز دے دیے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ مئی کے آخر یا جون کے آغاز تک صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے نے الیکٹرک بائیکس کی مانگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت 399.86 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 399.58 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر حکومتی پالیسیز اور جدید ڈیزائنز سے پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2026 کے آخر تک فروخت 5 لاکھ یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔