امریکا اور چین کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جب امریکی سینیٹرز کے ایک وفد نے بیجنگ میں دونوں ممالک کے درمیان استحکام اور تعاون پر زور دیا۔
مذاکرات کے دوران قانون سازوں نے امریکا چین تعلقات میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی احترام کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کو تصادم کے بجائے تعاون کی طرف بڑھنا چاہیے۔
سینیٹر اسٹیو ڈینز، جو وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ دونوں ممالک کو تقسیم کے بجائے استحکام پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران کہی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ جانے والے ہیں۔ اس ملاقات میں تجارت، معیشت اور عالمی سلامتی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
امریکا چین تعلقات میں اہم اقتصادی مسائل بھی شامل ہوں گے، جن میں تجارتی خسارہ اور صنعتی تعاون جیسے موضوعات شامل ہیں۔ سینیٹرز نے امید ظاہر کی کہ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے بحال ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کے دوران بوئنگ طیاروں کی فروخت کا بھی ذکر کیا گیا، کیونکہ چین نے تقریباً نو سال سے کوئی بڑا آرڈر نہیں دیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعطل کی مثال قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آئندہ ملاقات امریکا چین تعلقات کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک عالمی سطح پر اثر و رسوخ کے لیے مقابلے میں ہیں۔