یوکرین جنگ بندی اعلان کے مطابق صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 6 مئی سے عارضی طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام روس کی جانب سے یومِ فتح کے موقع پر اعلان کردہ سیزفائر کے جواب میں کیا گیا ہے۔
یوکرین جنگ بندی اعلان میں کہا گیا ہے کہ سیزفائر 5 اور 6 مئی کی درمیانی شب سے نافذ العمل ہوگا۔ زیلنسکی نے اسے “متوازن ردعمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین صورتحال کو احتیاط سے دیکھ رہا ہے۔
روس نے اس سے قبل یومِ فتح کی تقریبات کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں یوکرین نے بھی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی آ سکے۔
تاہم یوکرین جنگ بندی اعلان کے باوجود روسی وزارت دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر تقریبات میں کوئی خلل ڈالا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔
روسی حکام نے کیف کے شہریوں اور غیر ملکی سفارتی عملے کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی دی ہے، جس سے صورتحال کی حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔
یوکرین جنگ بندی اعلان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے عارضی طور پر تشدد میں کمی آ سکتی ہے۔
تاہم دونوں جانب سے اعلانات کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ماہرین کے مطابق اصل صورتحال کا انحصار زمینی اقدامات پر ہوگا۔