امریکہ چین طاقت کا توازن کے حوالے سے عالمی مبصرین نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین نے واضح کیا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت تیزی سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
اس دورے کے دوران امریکہ چین طاقت کا توازن اس وقت نمایاں ہوا جب چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے پر سخت مؤقف اپنایا اور امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملاقاتوں میں چین نے زیادہ مضبوط اور اعتماد سے بھرپور سفارتی انداز اپنایا، جبکہ ٹرمپ نسبتاً محتاط نظر آئے، جس سے امریکہ چین طاقت کا توازن میں تبدیلی کا تاثر مزید گہرا ہوا۔
اگرچہ چین کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے سست ترقی اور نوجوان بے روزگاری، اس کے باوجود عالمی تجارت اور برآمدات میں اس کا کردار بڑھ رہا ہے، جو امریکہ چین طاقت کا توازن کو متاثر کر رہا ہے۔
تائیوان، ایران بحران اور عالمی تجارت جیسے مسائل پر بھی چین کا مؤقف زیادہ مضبوط دکھائی دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ چین طاقت کا توازن اب صرف معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹجک سطح پر بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے دورے میں کچھ ممکنہ تجارتی معاہدوں کا ذکر کیا، لیکن ماہرین کے مطابق ان معاہدوں کی عملی صورت حال مشکوک ہے، جو امریکہ چین طاقت کا توازن کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ چین اب عالمی سطح پر امریکہ کے برابر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، اور امریکہ چین طاقت کا توازن ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔