دنیا بھر کی تیل منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے کیونکہ اوپیک کی مجموعی تیل پیداوار گزشتہ 26 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں اور توانائی تنصیبات پر حملے اس نمایاں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران اوپیک کی خام تیل پیداوار میں تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کمی دیکھی گئی۔ اس کمی کے بعد مجموعی پیداوار 2 کروڑ بیرل یومیہ سے بھی نیچے آگئی، جو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث خلیجی ممالک کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی بندش عالمی تیل رسد کو فوری متاثر کرتی ہے۔
کویت وہ ملک رہا جہاں تیل پیداوار اور برآمدات میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اپریل کے دوران کویت تقریباً خام تیل برآمد نہ کر سکا، جس سے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی۔
اسی دوران سعودی عرب اور عراق کی تیل پیداوار میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد خام تیل پیداوار تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ تک گر گئی، جس سے عالمی رسد کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔
اس تمام صورتحال کے باوجود متحدہ عرب امارات واحد خلیجی ملک رہا جہاں اپریل کے دوران تیل پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات نے علاقائی کشیدگی کے باوجود اپنی توانائی تنصیبات اور برآمدی نظام کو مستحکم رکھا۔
خلیجی خطے سے باہر وینزویلا اور لیبیا میں بھی خام تیل پیداوار میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں عالمی تیل قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔