روس امریکہ ایران قرارداد اقوام متحدہ

روس نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف امریکی قرارداد مسترد کر دی

روس امریکہ ایران قرارداد اقوام متحدہ کے معاملے نے عالمی سطح پر نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے، جب روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف امریکی قرارداد کو سختی سے مسترد کر دیا۔

اقوام متحدہ میں بحری سلامتی سے متعلق اجلاس کے دوران روسی مندوب نے کہا کہ یہ قرارداد یک طرفہ ہے اور ایران کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بناتی ہے۔ روس امریکہ ایران قرارداد اقوام متحدہ پر روس کا مؤقف واضح طور پر امریکی مؤقف کے خلاف سامنے آیا۔

روسی مندوب ویسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ماسکو کسی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جو خطے کی اصل وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک ملک کو ذمہ دار ٹھہراتی ہو۔

روس امریکہ ایران قرارداد اقوام متحدہ کے تحت روس نے خبردار کیا کہ ایسی یک طرفہ قراردادیں مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں اور صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔

روسی نمائندے کے مطابق خلیج فارس میں بحری سلامتی صرف الزامات سے نہیں بلکہ جاری تنازعات کے حل اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے ممکن ہے۔

امریکہ کی حمایت یافتہ اس قرارداد کو خلیجی ممالک بشمول بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت حاصل تھی، جس میں ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

روس امریکہ ایران قرارداد اقوام متحدہ کا یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے مسئلے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین