امریکہ ایران امن معاہدہ کے امکانات اس وقت مزید کمزور ہو گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے “بکواس” قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں خطے میں مختلف محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر خودمختاری کی تسلیم شدگی، جنگی نقصان کا معاوضہ اور امریکی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے جواب کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدہ “کمزور حالت” میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تجویز پہلے جنگ بندی اور بعد میں بڑے مسائل پر مذاکرات پر مشتمل تھی۔ اس صورتحال نے امریکہ ایران امن معاہدہ کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے۔
جاری تنازع کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 104 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی چین پر شدید دباؤ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی برآمدات کم کر دی ہیں جبکہ شپنگ کمپنیوں نے بھی خطرے کے باعث راستے محدود کر دیے ہیں۔
سفارتی سطح پر چین، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ عالمی برادری میں اختلافات اس مسئلے کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
اگر امریکہ ایران امن معاہدہ آگے نہیں بڑھتا تو اس کے سیاسی اور معاشی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی رہنما اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور توانائی کے راستوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔