نورین نیازی این سی سی آئی اے نوٹس کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی نے مارکۂ حق سے متعلق اپنے انٹرویو پر جاری نوٹس کے جواب میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ابتدائی تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔
نورین نیازی کے وکیل فیصل ملک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی مؤکل کو نوٹس کا علم پیر کی صبح سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد قانونی ٹیم این سی سی آئی اے کے دفتر پہنچی اور ابتدائی جواب جمع کراتے ہوئے شکایت کی نقل اور متعلقہ قانونی دفعات کی تفصیلات طلب کیں۔
وکیل کے مطابق قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ تفصیلی جواب تیار کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ اسی لیے این سی سی آئی اے سے چار ہفتوں کی مہلت مانگی گئی تاکہ تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد مکمل جواب جمع کرایا جا سکے۔
فیصل ملک نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو منگل کے روز ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی مؤکل مقررہ تاریخ پر پیش نہیں ہو سکیں گی کیونکہ قانونی ٹیم نے اضافی وقت کی درخواست دے رکھی ہے۔
انہوں نے اپنی مؤکل کے حوالے سے کہا کہ نورین نیازی تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتی ہیں اور ایسا کوئی اقدام نہیں کر سکتیں جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو۔ ان کے مطابق قانونی ٹیم قانون کے مطابق تحقیقات میں تعاون کرے گی۔
این سی سی آئی اے نے یہ نوٹس ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا تھا۔ نوٹس میں نورین نیازی کو اسلام آباد میں سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔
نورین نیازی این سی سی آئی اے نوٹس اس انٹرویو کے بعد جاری کیا گیا جس میں انہوں نے مارکۂ حق سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے تھے۔ اب اس معاملے کی مزید کارروائی این سی سی آئی اے کی تحقیقات اور قانونی عمل کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔