جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی اور توانائی کے شعبے میں مبینہ ناانصافی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئینی عدالت میں پیٹرولیم لیوی اور توانائی کے نظام میں موجود غیر منصفانہ اقدامات کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے مطابق ایکس ریفائنری قیمت میں 42 سے 43 فیصد تک لیوی شامل کی جا رہی ہے، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت اور عائد کردہ لیوی کا آپس میں کوئی منطقی تعلق نہیں۔ ان کے بقول حکومت اب تک ہزاروں ارب روپے لیوی کی مد میں وصول کر چکی ہے، تاہم اس رقم کا مؤثر استعمال نہیں کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پر خرچ کیا جانا تھا، مگر مطلوبہ بہتری نہ ہونے کے باعث پاکستان کو اب بھی ریفائنڈ تیل درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پیٹرول پر تقریباً 117 روپے فی لیٹر مختلف مدات میں لیوی اور ٹیکس لاگو ہیں۔ ان کے مطابق عام شہری، خصوصاً موٹرسائیکل استعمال کرنے والے افراد، روزانہ سینکڑوں ارب روپے کے ٹیکسز ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بجلی کے شعبے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس تقریباً 1800 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس وصول کی گئیں، جس نے عوام پر مزید مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔