نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتکاری اسی کا نام ہے کہ امریکا اور چین دونوں کے ساتھ بہترین تعلقات برقرار رکھے جائیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایک متوازن اور فعال خارجہ پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔
نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تمام بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور چین دونوں سے اچھے تعلقات پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی کامیابی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے کئی بین الاقوامی معاملات پر پاکستان کی پالیسی کی کھل کر توثیق کی ہے۔ اسحاق ڈار نے چین پاکستان دوستی کو ہمیشہ قائم رہنے والا رشتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ خطے میں امن کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں استحکام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسحاق ڈار کا واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کا بھی امکان ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون پر بات چیت ہوگی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے عرب، اسلامی اور یورپی ممالک کے سفیروں کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں اسحاق ڈار نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر مشرق وسطیٰ خصوصاً فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے بھی ملاقات کی جس میں سلامتی کونسل اصلاحات، مسئلہ کشمیر، افغانستان اور فلسطین پر گفتگو ہوئی۔ سیکرٹری جنرل نے عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔