ایران امریکہ مذاکرات

ایران نے امریکی تجویز پر جواب تاحال نہیں دیا، مذاکرات جاری

ایران امریکہ مذاکرات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں کیونکہ تہران نے ابھی تک واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی حتمی تجویز پر اپنا باضابطہ جواب نہیں دیا۔ مذاکراتی عمل سے باخبر ذرائع کے مطابق ایرانی حکام ابھی مسودے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے سے متعلق مشاورت ایران کے مختلف حکومتی اور پالیسی حلقوں میں جاری ہے۔ ایرانی قیادت ماضی کے تجربات اور سابقہ معاہدوں سے جڑے خدشات کے باعث دستاویز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہی ہے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے قبل ٹھوس اور عملی فوائد کی ضمانت ضروری ہے۔ اسی وجہ سے فیصلہ سازی کے عمل میں جلدبازی سے گریز کیا جا رہا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ایران امریکہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب خطے میں کشیدگی کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ رواں سال ہونے والی جنگ بندی نے حالات میں کچھ بہتری پیدا کی، تاہم مستقل امن کے لیے ہونے والی سفارتی کوششیں ابھی تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔

ایران کی اہم شرائط میں خطے کے مختلف محاذوں پر کشیدگی میں کمی شامل ہے۔ ایرانی حکام کا خیال ہے کہ پائیدار معاہدہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب وسیع پیمانے پر سلامتی سے متعلق خدشات کو بھی حل کیا جائے۔

دوسری جانب بعض ایرانی عسکری شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی عمل ناکام ہوا تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے اور قومی مفادات کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران کے ساتھ رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور بات چیت جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران امریکہ مذاکرات کا نتیجہ نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین