ایبولا وبا

ڈبلیو ایچ او نے مشتبہ ایبولا کیسز 116 تک کم کر دیے

ایبولا وبا سے متعلق تازہ اعداد و شمار میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ World Health Organization نے اعلان کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں مشتبہ ایبولا کیسز کی تعداد 906 سے کم ہو کر 116 رہ گئی ہے، جس کی وجہ مزید جانچ اور تصدیقی عمل ہے۔

صحت حکام کے مطابق جمہوریہ کانگو میں اب تک 321 تصدیق شدہ ایبولا کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں 48 اموات شامل ہیں۔ پڑوسی ملک Uganda میں بھی نو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں ایک ہلاکت شامل ہے۔ اس طرح موجودہ ایبولا وبا میں تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 330 ہو گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسچن لنڈمائر کے مطابق بہت سے ایسے افراد جو ابتدا میں مشتبہ مریض قرار دیے گئے تھے، بعد ازاں ان میں دیگر بیماریوں کی تشخیص ہوئی۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ، میننجائٹس اور دیگر بخار کی بیماریاں ابتدائی طور پر ایبولا جیسی علامات پیدا کر سکتی ہیں۔

ایبولا وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو شمال مشرقی Democratic Republic of the Congo کے صوبہ ایتوری میں کیا گیا تھا۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ وائرس اس اعلان سے کئی ہفتے قبل خاموشی سے پھیل رہا تھا۔

موجودہ وبا ایبولا کے بنڈی بوجیو (Bundibugyo) وائرس سے جڑی ہوئی ہے۔ اس وائرس کی ابتدائی علامات عام فلو، ملیریا اور ٹائیفائیڈ سے ملتی جلتی ہیں، جس کے باعث بروقت تشخیص مشکل ہو جاتی ہے اور بیماری کی نشاندہی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

صحت حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے نظام کے تحت ایبولا جیسی علامات رکھنے والے ہر فرد کو مشتبہ کیس تصور کیا جاتا ہے جب تک لیبارٹری ٹیسٹ اس کی تصدیق یا تردید نہ کر دیں۔ اسی وجہ سے مشتبہ کیسز کی تعداد میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔

بنڈی بوجیو وائرس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے حکام بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جلد تشخیص، مریضوں کی علیحدگی، رابطوں کی نگرانی اور عوامی آگاہی مہمات پر انحصار کر رہے ہیں۔ اب تک چھ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین