ایران نے سابق سپریم لیڈر کی علی خامنہ ای تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق تدفین کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جبکہ انتظامات کی تیاریاں جاری ہیں۔
علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کی قیادت کرتے رہے۔ وہ 28 فروری کو ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے تنازع کے پہلے روز ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی۔
ایرانی حکومت نے ابتدائی طور پر 4 مارچ کو سرکاری تدفین کا اعلان کیا تھا، تاہم جنگی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث اس تقریب کو مؤخر کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بڑے عوامی اجتماعات کے انعقاد کے لیے اضافی تیاریوں کی ضرورت تھی۔
تہران کے حکام کے مطابق علی خامنہ ای تدفین کی تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔ ان تقریبات میں ملک بھر سے عوام، سیاسی شخصیات اور مذہبی رہنما شرکت کریں گے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق تدفین سے متعلق مرکزی تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی۔ مشہد کو آخری آرام گاہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے جہاں سابق سپریم لیڈر کو سپردِ خاک کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریبات کے انعقاد کا امکان اسلامی کیلنڈر کے پہلے مہینے محرم الحرام کے ابتدائی ایام میں ہے، جو جون کے وسط میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق علی خامنہ ای تدفین میں کروڑوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اس مقصد کے لیے سکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے خصوصی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ تقریبات پرامن انداز میں مکمل ہو سکیں۔