وینزویلا زلزلہ کے چار روز بعد امدادی کارروائیوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں ریسکیو اہلکاروں نے دو 11 سالہ بچوں سمیت چار افراد کو ملبے سے بحفاظت زندہ نکال لیا۔ اس کامیاب ریسکیو نے متاثرہ خاندانوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق زلزلے میں اب تک کم از کم 1,430 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 3,360 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 69 ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
ریسکیو ٹیمیں دن رات ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔
Footage shows search and rescue workers pulling out a father and son from under the rubble of a collapsed building, four days after two deadly earthquakes hit Venezuela.
33 people have been rescued so far, with tens of thousands still unaccounted for. pic.twitter.com/be0aYNa7Gg
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 29, 2026
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اب تک ملبے سے زندہ نکالے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 33 ہو چکی ہے، جبکہ مزید زندہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
سیکڑوں بین الاقوامی امدادی کارکن اور مقامی فوجی دستے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں شریک ہیں۔ یورپی یونین نے زلزلہ متاثرین کے لیے 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی ہنگامی امداد بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیسیف کے مطابق وینزویلا زلزلہ سے متاثرہ تقریباً 18 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد، خوراک، طبی سہولیات، پینے کے صاف پانی اور رہائش کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب پوپ لیو نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی جلد بحالی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا کی ہے۔