ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ میں پاکستان ہاکی ٹیم کا سفر مایوس کن انداز میں اختتام پذیر ہوگیا۔ قومی ٹیم اپنے آخری میچ میں بھی انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل نہ کر سکی، جس کے بعد ایونٹ میں پاکستان کی کارکردگی پر شائقین ہاکی میں شدید مایوسی پائی گئی۔
ٹورنامنٹ کے اختتام پر قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے قوم سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے، جس پر وہ پوری قوم سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے ان تمام شائقین کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ٹیم کی حوصلہ افزائی جاری رکھی۔
عماد شکیل بٹ نے کہا کہ ایک کھلاڑی کے لیے شکست کو قبول کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، تاہم ٹیم نے ہر میچ میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے مطابق بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے کھلاڑیوں نے اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھائی۔
قومی کپتان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو دنیا کی مضبوط ہاکی ٹیموں کا مقابلہ کرنا ہے تو صرف کھلاڑیوں کی محنت کافی نہیں، بلکہ جدید تربیتی نظام، بہتر منصوبہ بندی اور مسلسل سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت اور پاکستان ہاکی فیڈریشن سے کھیل کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ تنقید سے گھبرانے والے نہیں اور آئندہ بھی کھلاڑیوں کے حقوق اور بہتر سہولیات کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق عالمی ٹیموں کے کھلاڑی طویل المدتی منصوبہ بندی اور جدید ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں، جس کا فائدہ انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں ملتا ہے۔
عماد شکیل بٹ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اکثر کسی بڑے ٹورنامنٹ سے چند روز قبل ہی تربیتی کیمپ شروع کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد شکایت کرنا نہیں بلکہ قومی ہاکی کی بہتری، نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور مستقبل میں بہتر نتائج کے لیے مؤثر اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔