کراچی کے المناک گل پلازہ آتشزدگی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پراسیکیوشن کے حوالے کر دی ہے۔ رپورٹ میں واقعے کو حادثاتی قرار دیتے ہوئے آگ لگنے کی وجوہات اور مختلف افراد کی مبینہ غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فرانزک تجزیے میں کسی بھی قسم کے دھماکا خیز مواد کے شواہد نہیں ملے، جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ آگ حادثاتی طور پر بھڑکی۔ ذرائع کے مطابق گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو چالان کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ کا آغاز دکان نمبر 193 سے ہوا، جہاں مبینہ طور پر دکاندار نعمت اللہ اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو دکان پر چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ تحقیق کے مطابق بچے کی جانب سے جلائی گئی ماچس کی تیلی مصنوعی پھولوں پر گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث دونوں کو غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
پولیس نے گل پلازہ مارکیٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین اور جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو بھی مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تمام نامزد افراد اس وقت مفرور قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس افسوسناک آتشزدگی میں مجموعی طور پر 72 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چار افراد کی باقیات اب تک ان کے ورثا نے وصول نہیں کیں۔ پنجاب فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ واقعے میں دھماکا خیز مواد استعمال نہیں ہوا۔
تحقیقات کے مطابق مارکیٹ یونین کی جانب سے کم عمر بچے کو دکان پر کام سے نہ روکنا، ایمرجنسی اطلاع بروقت نہ دینا اور آتشزدگی کے دوران پلازہ کے دروازے بند رکھنا انسانی جانوں کے زیادہ نقصان کا سبب بنا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بند دروازوں کی وجہ سے متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے۔
مزید یہ بھی بتایا گیا کہ آتشزدگی کے دوران یونین صدر نے کے الیکٹرک سے بجلی بند کروائی، جس کے باعث پلازہ اندھیرے میں ڈوب گیا اور اندر موجود افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ اب اس مقدمے کی آئندہ کارروائی عدالت میں پیش کی جانے والی شواہد اور قانونی کارروائی کی روشنی میں آگے بڑھے گی۔