نیٹو چیف نے ایران پر امریکی حملوں کا دفاع کیا

نیٹو چیف نے ایران پر امریکی حملوں کا دفاع کیا

نیٹو چیف نے ایران پر امریکی حملوں کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد ناگزیر ہو گئی تھی۔ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی مؤقف کی حمایت کی۔

مارک روٹے کے مطابق اگر جنگ بندی کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی جائے تو اس کا مؤثر جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کا سخت ردعمل مناسب اور صورتحال کے مطابق تھا۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب نیٹو کے رکن ممالک کے رہنما انقرہ میں اہم سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہیں۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سمیت کئی اہم معاملات زیر غور ہیں۔

نیٹو سربراہ نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدوں کی ساکھ برقرار رکھنا عالمی امن کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی فریق کی جانب سے بار بار خلاف ورزیاں ہوں تو صرف سفارتی بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ مؤثر اقدامات بھی ناگزیر بن سکتے ہیں۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیاں خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں کی گئیں تاکہ سلامتی کو درپیش خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ادھر کئی ممالک اب بھی دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

نیٹو اجلاس میں اجتماعی دفاع، رکن ممالک کے درمیان تعاون اور عالمی سلامتی کے دیگر اہم امور پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت اجلاس کی اہم ترین بحثوں میں شامل ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین