ایران نے کہا ہے کہ پاکستان ایران امریکا ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں اور پاکستان، قطر اور عمان خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ ثالث ممالک مسلسل رابطوں کے ذریعے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ثالث ممالک کا بنیادی مقصد کشیدگی میں اضافے کو روکنا اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہیں اور اسی مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کی پاسداران انقلاب نے بحرین اور عمان میں امریکی فوجی تنصیبات اور ریڈار نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق بحرین کے جفیر علاقے میں امریکی فوجی مراکز جبکہ عمان میں بعض ریڈار تنصیبات کو حملوں کا ہدف بنایا گیا۔
حالیہ کشیدگی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود عبوری مفاہمت کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ فوجی کارروائیوں نے سفارتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور خطے میں سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان مسلسل خطے کے تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ قطر اور عمان بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور اعتماد سازی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔
علاقائی کشیدگی کے باعث سمندری تجارت، توانائی کی فراہمی اور خلیجی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں تاکہ بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
ایران کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایران امریکا ثالثی، قطر اور عمان کی سفارتی کوششوں کے ساتھ، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار استحکام کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔