کویت اور بحرین پر ایرانی حملے

کویت اور بحرین پر ایرانی حملے، دونوں ممالک نے فضائی کارروائیاں ناکام بنانے کا دعویٰ

کویت اور بحرین پر ایرانی حملے بدھ کے روز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نیا مرحلہ ثابت ہوئے، جب دونوں خلیجی ممالک نے ایران سے منسوب فضائی حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر جاری فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئی، جس نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

کویتی فوج نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد حملہ آور ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔ حکام نے اس کارروائی کو ایرانی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی فضائی حدود اور حساس تنصیبات کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

بحرین کی فوج نے بھی اعلان کیا کہ اس نے کئی فضائی حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا۔ اس سے قبل بحرین کی وزارت داخلہ نے خطرے کے پیش نظر سائرن بجائے اور شہریوں و رہائشیوں کو ہدایت کی کہ وہ پرسکون رہیں اور فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے امریکہ کی تازہ فوجی کارروائیوں کے جواب میں کویت میں امریکی اہداف اور بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان حملوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

تازہ کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا کی اہم ترین تیل اور گیس گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس علاقے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سمندری سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

خطے کے ممالک نے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں، جبکہ عالمی برادری بھی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کارروائیاں کشیدگی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

کویت اور بحرین پر ایرانی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی خطہ ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین