روس یوکرین فضائی حملے

روس یوکرین فضائی حملے، 12 افراد ہلاک اور 90 زخمی

روس یوکرین فضائی حملے بدھ کی شب مزید شدت اختیار کر گئے جب روس نے یوکرین کے مختلف علاقوں پر میزائل، ڈرون اور گائیڈڈ بموں سے حملے کیے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 90 کے قریب زخمی ہوئے، جس سے ملک کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں ایک میزائل رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ گورنر اولیہ کیپر کے مطابق حملوں سے رہائشی عمارتوں، صنعتی تنصیبات، بندرگاہی ڈھانچے اور گیس پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے اوڈیسا پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کا مقصد ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، کارگو لاجسٹکس اور فوجی سازوسامان سے متعلق مقامات کو نشانہ بنانا تھا۔ روس کا مؤقف ہے کہ حملے صرف فوجی اہمیت کے اہداف پر کیے گئے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے دو کروز میزائل اور 120 سے زائد ڈرون داغے۔ فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ یا ناکارہ بنا دیا، جس کے باعث کئی علاقوں میں ممکنہ بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

خارکیف کے علاقے میں حملوں سے دو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے، جبکہ سومی میں گائیڈڈ بم حملے کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئے اور تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے۔ چرنیہیو، دنیپروپیٹروفسک، خیرسون، زاپوریزیا اور ڈونیٹسک میں بھی حملوں کے نتیجے میں مزید جانی نقصان اور املاک کو نقصان پہنچا۔

یوکرین نے دعویٰ کیا کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحیرہ اسود میں روسی بحری اثاثوں پر ڈرون حملے کیے اور تقریباً 20 روسی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

روس یوکرین فضائی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کیف کے دورے پر موجود تھیں، جہاں دفاعی تعاون، یورپی یونین میں یوکرین کی شمولیت اور آئندہ موسم سرما کی تیاریوں پر بات چیت کی گئی۔ تازہ حملے اس جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے انسانی اور سلامتی کے بحران کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین