ایران کی امریکا کو دھمکی ایک بار پھر سامنے آگئی ہے، جہاں ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایرانی انفراسٹرکچر پر حملہ کرتا ہے تو خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج خطے کے تمام اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گی۔ ان کے مطابق حملے اتنے شدید ہوں گے کہ ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایرانی حکام پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔
🔴 سخنگوی قرارگاه خاتمالانبیا: زیرساخت بزنید همه زیرساختهای منطقه را میزنیم
در صورتی که تهدیدهای اخیر رئیسجمهورِ از تهی سرشارِ آمریکا، مبنیبر هدفقراردادن زیرساختهای ایران اسلامی توسط ارتش متجاوز آن کشور عملی شود،
۱/۲ pic.twitter.com/SJUvD3LqCo— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) July 16, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی تصادم ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ، توانائی کی فراہمی اور عالمی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ایرانی بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سفارتی ذرائع خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔
تازہ ایرانی بیان نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی نازک صورتحال کو اجاگر کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق کشیدگی میں مزید اضافہ پورے خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔