عطا اللہ تارڑ فائرنگ واقعہ کے بعد لاہور پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے وفاقی وزیر اطلاعات کی گاڑی کے قریب ہوائی فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق ملزم کو اسلحہ سمیت حراست میں لے لیا گیا جبکہ اس کے زیر استعمال گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ رات لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے اپنی گاڑی سے وفاقی وزیر کی گاڑی کو اوورٹیک کیا اور اس کے بعد مبینہ طور پر کئی ہوائی فائر کیے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی شروع کی اور سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی شناخت کر کے اسے گرفتار کر لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
ویک اینڈ نائٹ پر ڈیفنس اے کے علاقے میں ہوائی فائرنگ کرنے والے ملزم کے خلاف لاہور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا۔
سیف سٹی اتھارٹی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کو ٹریس کیا گیا جبکہ اس کے زیر استعمال گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی۔
ملزم کے خلاف… pic.twitter.com/HHqonk9PgO
— Lahore Police Official (@Lahorepoliceops) July 19, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب ایک گاڑی نے بائیں جانب سے انہیں کراس کیا۔ ان کے مطابق نوجوان نے تقریباً پانچ ہوائی فائر کیے، جس کے بعد انہوں نے گاڑی کا تعاقب کیا اور قریب موجود پولیس ناکے کو اطلاع دی۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ان کے مطابق فائرنگ بظاہر انہیں نشانہ بنانے کے لیے نہیں کی گئی بلکہ ہوائی فائرنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔
پولیس نے ابھی تک ملزم کے ممکنہ محرکات کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل نوعیت اور اس کے پس منظر کا تعین کیا جا سکے۔