ایران نے سعودی عرب حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کردیا ہے۔ تہران نے عراق سے سعودی عرب کی جانب داغے گئے پروجیکٹائلز کے حوالے سے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔
ایرانی فوجی عہدیدار کا بیان سعودی عرب کی جانب سے ان الزامات کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ عراق میں موجود ایران نواز گروہوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز داغے۔
ایرانی عہدیدار نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والے حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دینا صورتحال کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ایک بڑی غلطی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دوسرے ممالک سے سعودی عرب کی جانب داغے گئے پروجیکٹائلز کا اسلامی جمہوریہ ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ تہران نے سعودی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کردی۔
صرح المتحدث الرسمي باسم وزارة الدفاع اللواء الركن تركي المالكي أنه إلحاقاً للبيانين الصادرين من وزارة الدفاع يومي الاثنين (١٣ صفر ١٤٤٨هـ) والثلاثاء ( ١٤ صفر ١٤٤٨هـ) الموافقين ( ٢٧- ٢٨ يوليو ٢٠٢٦م) من أن الدفاعات الجوية اعترضت ودمرت عدداً من المسيّرات التي حاولت استهداف منشآت… pic.twitter.com/0Pei5KwSkQ
— وزارة الدفاع (@modgovksa) July 29, 2026
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف مشترکہ فضائی حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی فورسز اور سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں سے منسلک تھے۔
سعودی عرب نے کہا کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئیں کیونکہ عراق سے اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ریاض نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے مزید حملوں کی صورت میں کارروائی کا انتباہ دیا۔
عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے دعویٰ کیا کہ امریکی سعودی حملوں میں اس کے کم از کم 20 اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ گروپ کے مطابق بغداد، بصرہ، کرکوک اور دیگر صوبوں میں اس کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
خطے میں حالیہ واقعات نے خلیجی اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ ایران کا انکار اور سعودی عرب کے الزامات دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔