ایلون مسک ایکس آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی کا تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایکس نے آسٹریلیا میں کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے قانون کے سخت نفاذ کے منصوبوں پر اعتراض کیا۔ کمپنی نے کہا کہ نئی تجاویز عالمی قانونی اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہیں۔
آسٹریلیا نے گزشتہ سال دسمبر میں دنیا کا پہلا قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی گئی۔ اس قانون کو زیادہ تر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
آسٹریلوی سینیٹ کمیٹی کو جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں ایکس نے کہا کہ ای سیفٹی کمشنر کے اختیارات میں اضافہ رازداری اور قانونی معاملات پر سوالات پیدا کر سکتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نئی دستاویزاتی ضروریات بیرون ملک موجود اداروں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
ایکس نے خلاف ورزیوں پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ بڑھا کر 99 ملین آسٹریلوی ڈالر کرنے کی تجویز پر بھی اعتراض کیا۔ کمپنی کے مطابق کسی بھی بیرونی فرد یا ادارے سے معلومات طلب کرنے کے اختیارات بین الاقوامی قانونی اصولوں سے متصادم ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے نے سیاسی اور سفارتی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ ایلون مسک پہلے بھی آسٹریلیا کے سوشل میڈیا قانون پر تنقید کر چکے ہیں، جبکہ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات سے تحفظ دینا ہے۔
آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر ای سیفٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ موجودہ اختیارات محدود ہیں جس کے باعث تحقیقات میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ادارہ مزید اختیارات کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ پلیٹ فارمز کی نگرانی بہتر انداز میں کی جا سکے۔
یوٹیوب اور ٹک ٹاک سمیت دیگر پلیٹ فارمز نے بھی عمر کی تصدیق کے نظام سے متعلق مشکلات کا اظہار کیا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کم عمر صارفین کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں جو سو فیصد مؤثر ہو۔
آسٹریلوی پارلیمنٹ ابھی مزید نفاذی اختیارات سے متعلق قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔ سینیٹ کمیٹی 25 اگست کو اپنی سفارشات پیش کرے گی، جس کے بعد آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل آزادی پر بحث مزید آگے بڑھے گی۔