بلوچستان کی کوئلہ کان میں دھماکہ، 34 کان کن جان کی بازی ہار گئے

کوئٹہ کوئلہ کان دھماکہ میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 34 ہو گئی ہے۔ بلوچستان کے علاقے سورنگ، کوئٹہ کے قریب واقع کان میں ہونے والے طاقتور دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اب بھی زیرِ زمین پھنسے دو مزدوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر آپریشنز محمد فہد کے مطابق امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر معدنیات و کان کنی شعیب نوشیروانی نے بتایا تھا کہ دھماکے کے وقت کان کے متاثرہ حصے میں 36 مزدور موجود تھے۔

حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں تقریباً چار ہزار فٹ گہرائی میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف نے بتایا کہ مشکل حالات کے باوجود امدادی عملہ متاثرہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سینئر کان کنی افسر عبدالغنی بلوچ نے تصدیق کی کہ میتھین گیس کے شدید دھماکے سے دو قریبی کانیں متاثر ہوئیں۔

کوئٹہ کوئلہ کان دھماکہ سورنگ کے دور افتادہ علاقے میں پیش آیا، جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق میتھین گیس کے دھماکے زیرِ زمین کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مہلک حادثات کی بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جاں بحق مزدوروں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

صدر زرداری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ زیرِ زمین پھنسے تمام مزدوروں تک جلد رسائی یقینی بنائی جائے اور کانوں میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ جب تک ہر مزدور کو تلاش نہیں کر لیا جاتا، ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کوئلہ کانوں میں مستقل حفاظتی نظام متعارف کرانے اور مزدوروں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین