فلسطینی ذرائع نے غزہ جنگ بندی معاہدہ کے دوسرے مرحلے کے مجوزہ روڈ میپ کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میں غزہ کی عبوری حکومت، داخلی سلامتی، غیر مسلحی، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور تعمیر نو کا جامع منصوبہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ فریقوں کی منظوری کے بعد 14 روز کے اندر اس پر عمل درآمد شروع کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مرحلے کا آغاز مکمل جنگ بندی اور انسانی امداد سے متعلق تمام طے شدہ اقدامات پر مکمل عمل درآمد کے بعد ہوگا۔ اس دوران غزہ کے سول اور سکیورٹی امور نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے حوالے کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں، عوامی خدمات اور مالیاتی و انتظامی جائزے کی نگرانی کرے گی۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق نیشنل کمیٹی داخلی سلامتی، اسلحہ لائسنسنگ اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ "ایک اختیار، ایک قانون اور ایک ہتھیار” کے اصول کے تحت اہل سکیورٹی اہلکاروں کو سرکاری اداروں میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر کو سول ذمہ داریاں یا ریٹائرمنٹ دی جائے گی۔
غزہ جنگ بندی معاہدہ کے دوسرے مرحلے میں بھاری ہتھیاروں کو غیر فعال کرکے غزہ میں محفوظ رکھنے، سرنگوں اور فوجی پیداوار کے مراکز ختم کرنے اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحہ اسرائیل یا کسی دوسرے فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا بلکہ نیشنل کمیٹی کی نگرانی میں غزہ ہی میں محفوظ رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق غیر مسلحی کا عمل اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار مکمل انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابل اعتماد سیاسی عمل سے منسلک ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اپنی ذمہ داریاں پوری کیے بغیر منصوبے کا کوئی حصہ نافذ نہیں ہوگا۔
مجوزہ روڈ میپ میں جنگ بندی پر عمل درآمد کی نگرانی، انسانی امداد کی فراہمی اور عبوری انتظامیہ کی معاونت کے لیے ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے مسلح گروہوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
روڈ میپ کا آخری مرحلہ غزہ کی جامع تعمیر نو پر مشتمل ہے، جسے بین الاقوامی نگرانی اور نیشنل کمیٹی کے تعاون سے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ حماس سمیت دیگر مسلح گروہوں کی مکمل غیر مسلحی سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم فلسطینی ذرائع کی جانب سے بیان کردہ تجاویز پر عمل درآمد تمام متعلقہ فریقوں کی منظوری سے مشروط ہے۔