اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ سرنگیں تباہ کر دی ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔
دونوں رہنماؤں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بیوفورٹ کے علاقے میں موجود سرنگوں کا نظام مبینہ طور پر حزب اللہ کے اس منصوبے کا اہم حصہ تھا جس کے تحت گلیل کے علاقوں میں دراندازی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ بیان کے مطابق ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے تقریباً 700 ٹن دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
اسرائیلی حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے لبنان جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد کی گئی۔ اسرائیل کے مطابق اس کا مقصد شمالی سرحد پر موجود سکیورٹی خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب لبنانی ذرائع ابلاغ نے حداثہ، دیر میماس کے نواح، بیوفورٹ قلعے اور ارنون و یحمر کے درمیان متعدد شدید دھماکوں کی اطلاع دی۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق دھماکوں سے زوردار جھٹکے محسوس کیے گئے، گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور کئی علاقوں میں نقصان پہنچا۔
یہ پیش رفت 26 جون کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امریکی حمایت یافتہ فریم ورک معاہدے کے باوجود سامنے آئی۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی اور مسلح گروہوں کی غیر مسلحی کا منصوبہ شامل ہے۔
لبنانی فوج نے 21 جولائی کو زوتر الغربیہ میں معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت تعیناتی شروع کی تھی، تاہم اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں اب بھی موجود ہیں اور مختلف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں 4,333 افراد جاں بحق اور 12,236 زخمی ہو چکے ہیں۔ تازہ کارروائی اور حزب اللہ سرنگیں تباہ کیے جانے کے اسرائیلی دعوے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔