یمن کے میری ٹائم رابطہ ادارے نے واضح کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر ٹرانزٹ فیس کی تردید کرتے ہوئے تجارتی جہازوں پر کسی بھی قسم کی نئی فیس عائد کرنے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق باب المندب آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ وضاحت ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی حکام جنوبی بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے پر ایرانی حکام سے بھی بات چیت ہوئی، تاہم کسی حتمی فیصلے یا وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر (HOCC) نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی محفوظ ٹرانزٹ سروس مکمل طور پر رضاکارانہ اور مفت ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ جہازوں سے کسی قسم کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔
ادارے نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص یا تنظیم باب المندب سے گزرنے کے بدلے رقم طلب کرے تو اس کا نہ یمن کی حکومت سے تعلق ہے اور نہ ہی HOCC سے۔ اس لیے ایسے دعوؤں پر اعتماد نہ کیا جائے۔
HOCC نے شپنگ کمپنیوں کو مشورہ دیا کہ وہ غیر مجاز افراد یا اداروں کو رقم ادا نہ کریں اور نہ ہی حساس معلومات فراہم کریں۔ ادارے نے زور دیا کہ صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع سے جاری ہدایات پر عمل کیا جائے۔
باب المندب آبنائے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے سے متعلق ہر پیش رفت پر عالمی شپنگ انڈسٹری کی گہری نظر رہتی ہے۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر ٹرانزٹ فیس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہاز پہلے کی طرح بغیر کسی فیس کے باب المندب سے گزر سکتے ہیں۔ اس بیان کا مقصد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو صورتحال سے متعلق واضح اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔