جنوبی بھارت سیلاب

جنوبی بھارت میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 14 افراد جاں بحق، ہزاروں بے گھر

جنوبی بھارت سیلاب نے ریاست کیرالہ اور کرناٹک میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

ریاست کیرالہ میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ تقریباً 7,700 افراد کو نکال کر 275 امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ سیلابی پانی نے کئی رہائشی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے کہا کہ وہ ضلعی حکام کے ساتھ اجلاس کر کے امدادی کیمپوں اور بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صفائی اور بحالی کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں مزید درمیانی درجے کی بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی انتباہات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

شدید بارشوں کے باعث کیرالہ میں متعدد اسکول بھی بند کر دیے گئے جبکہ ریاستی حکومت نے اساتذہ کی بھرتی کے لیے ہونے والا امتحان مؤخر کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ امیدواروں اور عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

پڑوسی ریاست کرناٹک میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک میاں بیوی اور ان کا بیٹا جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر نگرانی بھی بڑھا دی گئی۔

جنوبی بھارت سیلاب نے ایک بار پھر مون سون کے موسم میں خطے کو درپیش خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں جبکہ شہریوں کو آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کے امکان کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین