وزیراعظم شہباز شریف نے نجکاری پروگرام کے تحت تمام مراحل مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ طے شدہ اہداف اور ٹائم لائنز پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل شفاف، منظم اور قومی مفاد کے مطابق آگے بڑھایا جائے تاکہ معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق ہونے والے اجلاس میں مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران انہوں نے خصوصی طور پر زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری کے حوالے سے ہدایت دی کہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے بینک کا بنیادی مقصد اور زرعی شعبے میں اس کا کردار متاثر نہ ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ نجکاری کے بعد بھی زرعی ترقیاتی بینک کی توجہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو زرعی قرضوں اور مالی سہولتوں کی فراہمی پر مرکوز رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق کسانوں کو بروقت مالی وسائل کی دستیابی زرعی پیداوار بڑھانے اور ملکی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسانوں، بالخصوص چھوٹے کاشتکاروں، کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے آسان قرضوں اور مالی معاونت تک رسائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی ملکی غذائی تحفظ اور اقتصادی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ نجکاری نے وزیراعظم کو نجکاری پروگرام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مختلف سرکاری اداروں کی نجکاری پر ہونے والی پیش رفت، مکمل کیے گئے مراحل اور آئندہ کے اہداف سے آگاہ کیا گیا، جبکہ مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومتی نجکاری پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 27 سرکاری ادارے تین مختلف مراحل میں نجکاری کے عمل کا حصہ ہیں۔ بریفنگ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے حوالے سے فنانشل کلوزنگ کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پی آئی اے کی پہلی فنانشل کلوزنگ اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی 29 جون 2026 کو مکمل کی گئی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری پروگرام کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، قومی خزانے پر مالی بوجھ کم کرنا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نجکاری کے تمام مراحل میں شفافیت، مقررہ وقت کی پابندی اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔