بلاول اے جے کے انتخابات

بلاول بھٹو کا دعویٰ: آزاد کشمیر انتخابات میں مینڈیٹ متاثر ہوا، سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

بلاول اے جے کے انتخابات تنازع شدت اختیار کر گیا ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ آزاد جموں و کشمیر انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا “کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے”۔ انہوں نے یہ بیان انتخابی نتائج پر اعتراضات کے بعد دیا۔

ایک ویڈیو پیغام میں بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات شفاف اور آزادانہ نہیں تھے۔ انہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کیا، تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ حکومتی نمائندوں نے مختلف مؤقف پیش کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے پارٹی کارکنوں کو نو نشستوں پر کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ پارٹی میرپور اور مظفرآباد سمیت ان حلقوں کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی جہاں ان کے مطابق پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ متاثر ہوا۔

بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ سیاسی مقابلوں کے لیے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کریں۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ نے 10 اگست کو ضلع باغ، پونچھ ڈویژن میں جلسہ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کارکنوں کو متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سیاسی میدان نہیں چھوڑے گی۔

بلاول بھٹو کا بیان اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 45 میں سے 23 نشستیں حاصل کیں۔

بلاول اے جے کے انتخابات تنازع ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی انتخابات پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کامیابی کو عوامی حمایت کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں آنے والے دنوں میں مزید سیاسی سرگرمیاں متوقع ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین