افغانستان طالبان مخالف نیا مسلح گروپ سامنے آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبہ فاریاب میں طالبان مخالف ایک نئے گروپ نے سرگرمیاں شروع کی ہیں اور پیر کے روز مبینہ طور پر لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں نے طالبان پر حملہ کیا۔ اس حوالے سے باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے طرزِ حکومت، مبینہ نسلی امتیاز، کرپشن اور تعلیم، روزگار و انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں کے باعث عوامی مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق بہتر مواقع کی تلاش میں افغان شہریوں کی یورپ کی جانب نقل مکانی بھی بڑھ رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق لبریشن فرنٹ جلد اپنی تنظیمی ساخت، قیادت اور مستقبل کی سرگرمیوں کا باضابطہ اعلان کرے گا۔ فاریاب میں پیش آنے والا حالیہ حملہ اس گروپ کی ابتدائی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنرل یاسین ضیا بھی طالبان کے خلاف مزاحمت کو مزید تیز کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں بدخشان کے یفتل، زیبک اور ارگو اضلاع میں بھی طالبان مخالف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی دوران فاریاب کو مزاحمتی سرگرمیوں کا ایک نیا مرکز قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ضلع غورمچ میں بھی طالبان پر ایک اور حملے کی اطلاع دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران طالبان نے مبینہ طور پر 186 سابق افغان فوجی اہلکاروں کو قتل کیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور اس بارے میں سرکاری سطح پر مزید وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔
افغانستان طالبان مخالف نیا مسلح گروپ سامنے آنے کی اطلاعات ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کی جانب توجہ مبذول کراتی ہیں۔ گروپ کی تنظیم، سرگرمیوں اور حالیہ کارروائیوں سے متعلق مزید سرکاری یا آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔