عمران خان کی صحت پر خدشات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں، جب سابق وزیر اعظم کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے سی این این کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں اپنے والد کی حالت پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صحت سے متعلق مکمل معلومات نہیں مل رہیں۔
یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر مختلف سرگرمیاں کیں۔ عمران خان کو 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کیس میں جیل بھیجا گیا تھا۔
قاسم اور سلیمان نے لندن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ سے خاندان، وکلا اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باعث انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں تازہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
قاسم نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فون رابطے کے حکم کے باوجود معاملات آسان نہیں ہوئے۔ دونوں بھائیوں کا کہنا تھا کہ ویزا مسائل کے باعث وہ پاکستان آ کر والد سے ملاقات نہیں کر پا رہے۔
حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاسم اور سلیمان پاکستان آنے کے لیے بیرون ملک پاکستانی شناختی دستاویزات استعمال کر سکتے ہیں۔ حکام نے ان کے مؤقف کو گمراہ کن قرار دیا۔
عمران خان کی صحت پر خدشات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب ان کی آنکھ کی بیماری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور خاندان نے علاج میں شفافیت، ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی اور ملاقاتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
عمران خان مختلف مقدمات میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی ان کی رہائی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بیٹوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی حل میں دیگر قیدی سیاسی کارکنوں کے معاملات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔