پاکستان میڈیکل ٹورازم

پاکستان میڈیکل ٹورازم کا عالمی مرکز بن سکتا ہے، ماہرین کی اہم تجاویز

پاکستان میڈیکل ٹورازم عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کرنے والی صحت کی صنعت میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی معیار کے طبی ماہرین، جدید علاج کی سہولتیں، نسبتاً کم اخراجات اور ایستھیٹک میڈیسن میں بڑھتی مہارت پاکستان کو خطے کا اہم طبی مرکز بنا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) اس شعبے کے ماہرین سے مسلسل مشاورت کر رہی ہے۔ ماہرین نے حکومت کو بتایا کہ 2024 میں 144.5 ارب ڈالر مالیت کی عالمی میڈیکل ٹورازم انڈسٹری 2033 تک 704.8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس شعبے کی سالانہ اوسط شرح نمو 19 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی میڈیکل ٹورازم کی تقریباً 60 فیصد طلب تین اہم شعبوں پر مشتمل ہے۔ کاسمیٹک اور ایستھیٹک سرجری کا حصہ 25 سے 30 فیصد، دندان سازی تقریباً 10 فیصد جبکہ فرٹیلٹی اور بیریاٹرک سرجری مجموعی طور پر 10 سے 15 فیصد مارکیٹ پر مشتمل ہیں۔ ان میں ایستھیٹک میڈیسن سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ بن چکا ہے، جس کی وجہ سوشل میڈیا کا اثر، جدید کم تکلیف دہ علاج اور خواتین کے ساتھ مردوں میں بھی کاسمیٹک طریقہ علاج کی بڑھتی مقبولیت ہے۔

اسلام آباد کے پلاسٹک سرجن اور ہیئر ٹرانسپلانٹ ماہر ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ ایستھیٹک علاج زیادہ تر اختیاری ہوتے ہیں اور کئی مراحل میں مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے بین الاقوامی مریضوں کے ساتھ طویل المدتی تعلق قائم کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ان کے مطابق 25 سے 45 سال کی عمر کے افراد اس شعبے کے سب سے بڑے صارفین ہیں، جبکہ مردوں میں ہیئر ٹرانسپلانٹ اور باڈی کونٹورنگ کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ڈاکٹر سلمان نے مزید کہا کہ ترکی ہر سال 10 لاکھ سے زائد میڈیکل ٹورسٹس کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جن میں تقریباً 60 فیصد صرف ہیئر ٹرانسپلانٹ کے لیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ رائنوپلاسٹی، فیس لفٹ، لائپوسکشن اور ٹمی ٹک جیسے طریقہ علاج سے ترکی اربوں ڈالر کی آمدن حاصل کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بھی کم لاگت، ماہر سرجنز اور جدید طبی سہولتوں کی بدولت اسی طرح عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں طبی علاج کی لاگت مغربی ممالک کے مقابلے میں 60 سے 90 فیصد کم ہے۔ ملک ہر سال 25 ہزار سے زائد نئے ڈاکٹرز تیار کرتا ہے جبکہ 52 ہزار سے زیادہ اسپیشلسٹ ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد نے ایف سی پی ایس، ایم آر سی ایس، ایف آر سی ایس سمیت بین الاقوامی اسناد حاصل کر رکھی ہیں یا برطانیہ، امریکا اور خلیجی ممالک سے تربیت حاصل کی ہے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، ثقافتی قربت، مشترکہ زبانیں اور مذہبی وابستگی اسے افغانستان، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور برطانیہ و کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کے لیے علاج کا پرکشش مرکز بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت مؤثر پالیسی سازی، عالمی معیار کی منظوری، جدید طبی انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی تشہیری مہم پر توجہ دے تو پاکستان میڈیکل ٹورازم نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور قومی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین