شفیق آباد جعلی کتابوں پر چھاپہ

لاہور پولیس نے مبینہ جعلی کتابیں ضبط کرلیں، نیشنل بک فاؤنڈیشن کی مطبوعات بھی شامل

شفیق آباد جعلی کتابوں پر چھاپہ کے بعد رجسٹرڈ پبلشرز نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے کارروائی کے باوجود مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جعلی کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے خلاف جاری مہم اس وقت مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جب قانونی کارروائی بروقت مکمل نہ کی جائے۔

پبلشرز کے مطابق ان کی نشاندہی پر پولیس نے لاہور کے علاقے کھوکھر ٹاؤن، مالی پورہ گلی نمبر 1 میں واقع ایک مبینہ پرنٹنگ پریس اور دفتری خانے پر چھاپہ مارا۔ ان کے دعوے کے مطابق کارروائی کے دوران سرکاری اور نجی اداروں سے منسوب بڑی تعداد میں مبینہ جعلی کتابیں برآمد کی گئیں، جبکہ موقع پر مقامی افراد اور میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔

شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق پرنٹنگ پریس کا مبینہ مالک اویس موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ ماجد نامی شخص کو گرفتار کرنے کے بعد بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

رجسٹرڈ پبلشرز نے مزید الزام عائد کیا کہ شفیق آباد تھانے کے بعض اہلکاروں نے قانونی کارروائی کے بجائے فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ باقاعدہ درخواست جمع کرانے کے باوجود ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی گئی۔

شکایت کنندگان نے ایس ایچ او شفیق آباد پر بھی یہ الزام لگایا کہ انہوں نے مقدمہ درج کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور مبینہ طور پر ملزمان کے مؤقف کی تائید کی۔ بعض پبلشرز نے پولیس اہلکاروں پر رشوت لینے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی متعلقہ حکام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری کیا ہے۔

تاحال پنجاب پولیس یا شفیق آباد تھانے کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ایف آئی آر میں تاخیر یا مبینہ بدعنوانی سے متعلق دعوے فی الحال شکایت کنندگان کے الزامات ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

شفیق آباد جعلی کتابوں پر چھاپہ کا معاملہ تعلیمی اشاعت، کاپی رائٹ کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔ تاہم قانونی اصولوں کے مطابق تمام الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت کے فیصلے تک متعلقہ افراد اور پولیس اہلکاروں کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین