پاکستان میں مہنگائی

پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 9.2 فیصد ہوگئی

پاکستان میں مہنگائی کی شرح جولائی کے دوران دو فیصد کمی کے بعد 9.2 فیصد کی سطح پر آگئی۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (NPMC) کے اجلاس میں حکام نے مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور غذائی اشیا کے معیار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ جولائی میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد سے کم ہوکر 9.2 فیصد ہوگئی۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

حکام کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی بڑھانے کا سب سے بڑا سبب رہا۔ گندم، آٹا، تازہ دودھ اور پیٹرول کی قیمتوں نے بھی مہنگائی پر دباؤ ڈالا، تاہم چینی، آلو اور مرغی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجموعی مہنگائی میں کمی دیکھنے میں آئی۔

پاکستان میں مہنگائی کے ساتھ پیک شدہ اشیائے خورونوش کے معیار پر بھی اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے 491 نمونوں میں سے 176 قومی معیار پر پورے نہیں اترے، یعنی تقریباً 36 فیصد نمونے غیر معیاری قرار پائے۔

رپورٹ کے مطابق 204 بناسپتی گھی کے نمونوں میں سے 98 غیر معیاری نکلے۔ بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40، پیک شدہ دودھ کے 104 میں سے 26 اور دودھ پاؤڈر کے 18 میں سے 8 نمونے بھی معیار پر پورے نہیں اترے۔ ریفائنڈ پام آئل کے چار میں سے تین اور کینولا آئل کے 13 میں سے ایک نمونہ بھی غیر معیاری پایا گیا۔

احسن اقبال نے کھلے گھی، خوردنی تیل اور دودھ کا ملک گیر سروے کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر معیاری اشیائے خورونوش عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ لیبارٹری رپورٹ کا جائزہ لینے اور شواہد پر مبنی سفارشات دینے کے لیے ماہرین پر مشتمل تکنیکی کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔

اجلاس میں ایل پی جی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے علاوہ عالمی منڈی میں خام تیل، سویا بین آئل، چاول، گندم، چینی اور کھاد و یوریا کی قیمتوں کے ملکی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ مختلف شہروں میں تھوک اور پرچون قیمتوں کے فرق کی تحقیقات اور صارفین کو مناسب نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین