کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ایدھی ہوم ڈکیتی کے دوران مسلح ڈاکو 65 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ پولیس اور فلاحی ادارے کے مطابق ملزمان بینک سے رقم لے کر آنے والے عملے کا مبینہ طور پر پیچھا کرتے ہوئے ایدھی سینٹر پہنچے۔
ایدھی فاؤنڈیشن انتظامیہ کے مطابق رقم جمعے کے روز ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بینک سے نکلوائی گئی تھی۔ حکام نے بتایا کہ 4 مسلح ملزمان نے عملے کا پیچھا کیا اور رقم ایدھی سینٹر پہنچنے کے بعد وہاں واردات کی۔
مسلح ڈاکوؤں نے ملازمین کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا اور پوری رقم لے کر فرار ہوگئے۔ ملازمین نے پولیس کو بتایا کہ چاروں ملزمان نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے، جس کے باعث ان کی شناخت میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
واقعے کے بعد ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران بھاری نفری کے ہمراہ ایدھی ہوم پہنچے اور تحقیقات شروع کردیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے جبکہ ملزمان تک پہنچنے کے لیے اطراف میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کسی موجودہ یا سابق ملازم نے ایدھی ہوم ڈکیتی میں سہولت کاری کی ہوسکتی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے رکن سعد ایدھی کے مطابق ملزمان کو مرکز کے معمولات اور رقم رکھنے والے دفتر کے بارے میں مکمل معلومات معلوم ہوتی تھیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے ایدھی سینٹر کو غریب اور بے سہارا افراد کے لیے اہم سہارا قرار دیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کو جلد گرفتار کرنے اور فلاحی ادارے کی انتظامیہ سے مکمل رابطہ رکھنے کی ہدایت کی۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کا حکم دیا۔ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید تفتیشی طریقوں کے استعمال کی ہدایت کرتے ہوئے صوبے بھر میں فلاحی اداروں کی سیکیورٹی مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔