آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں متحدہ عرب امارات نے ایران پر ADNOC کے ایک ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی کارروائی قرار دیا۔ وزارت کے مطابق ٹینکر ریاستی ملکیتی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کا تھا اور آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔
ADNOC نے جمعے کو بتایا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس کے 15 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ کمپنی کے مطابق رواں ہفتے ہی اس کے تین جہازوں پر حملے ہوئے۔
ایران نے اہم آبی گزرگاہ کی مؤثر ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے اور دوبارہ آمدورفت کی اجازت دینے سے قبل امریکا سے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تہران آبنائے میں آمدورفت کے حوالے سے بھی انتظامات پر بات چیت کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق عمان کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب آبنائے کو فوری طور پر دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن میں امریکا کی جانب سے جون میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی پر معاوضہ بھی شامل ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی کہا کہ آبنائے کھولنے کا الگ طریقہ کار موجود ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، کیونکہ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی تھی۔ تازہ حملے اور جاری مذاکرات نے عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔