حوثیوں کے مارب پر حملے

حوثیوں کا مارب پر دوبارہ حملہ، یمن میں بڑے تنازع کا خطرہ

حوثیوں کے مارب پر حملے ایک بار پھر شدت اختیار کرگئے ہیں، جہاں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بے گھر افراد کے کیمپوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق حملوں میں 2 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔

یمن کی فوج نے ہفتے کی صبح بتایا کہ اس نے مختلف محاذوں پر حوثی فورسز کے خلاف کارروائی کی۔ فوج نے آپریشن کی تفصیلات یا وقت نہیں بتایا، تاہم مزید حملوں کی صورت میں ضروری فوجی اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔

تازہ حوثیوں کے مارب پر حملے ایران کے حمایت یافتہ گروپ اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانے کی لڑائی حالیہ برسوں میں بڑی حد تک کم ہوگئی تھی۔

یہ کشیدگی مارب اور حضرموت صوبوں میں فوجی کیمپوں پر ہونے والے حملوں کے ایک روز بعد بڑھی، جن میں حکومتی ذرائع کے مطابق کم از کم 30 یمنی فوجی ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ فورسز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

حوثیوں نے دونوں صوبوں میں سعودی فوجی تعیناتیوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ تاہم دونوں جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ سعودی عرب نے بھی حوثیوں کے الزامات کی تصدیق نہیں کی۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے خبردار کیا کہ مارب اور حضرموت میں تازہ حملوں کے ساتھ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملوں نے یمن کو اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد بڑے تنازع کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ صورتحال علاقائی سلامتی اور آزادانہ بحری نقل و حرکت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تازہ حوثیوں کے مارب پر حملے نے یمن کے وسیع علاقائی تنازع میں مزید الجھنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین