یورپ ہیٹ ویو

یورپ ایک اور شدید ہیٹ ویو کی زد میں، خشک سالی برقرار

یورپ ایک اور شدید ہیٹ ویو کی زد میں آنے والا ہے، جہاں بڑھتا درجہ حرارت، خشک سالی اور جنگلاتی آگ مختلف علاقوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے۔

برطانیہ اور فرانس کے بعض علاقوں میں پیر کو شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ہنگری سمیت کئی ایسے ممالک بھی غیر معمولی گرمی کی تیاری کر رہے ہیں جہاں شدید درجہ حرارت معمول کا حصہ نہیں۔ اٹلی اور کروشیا کے ساحلی علاقوں میں بھی شدید گرمی محسوس کی جا رہی ہے۔

برطانیہ میں محکمہ موسمیات نے ایک اور شدید گرم دور کی پیش گوئی کی ہے۔ انگلینڈ کا نصف حصہ اور پورا ویلز پہلے ہی خشک سالی کا شکار ہیں، جبکہ لاکھوں افراد پانی کے استعمال کی پابندیوں سے متاثر ہیں۔

فرانس میں جنوب مشرقی علاقوں کا درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ سے جمعہ تک شدید گرمی تقریباً پورے ملک کو متاثر کرسکتی ہے۔

یورپ ہیٹ ویو کے باعث خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یونان میں ایتھنز کے قریب نئی آگ بھڑک اٹھی، جبکہ فرانس اور اسپین میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ تباہی مچا چکی ہے۔

شدید گرمی اور خشک سالی سے یورپ کے دریاؤں میں پانی کی سطح بھی ریکارڈ کم ہو رہی ہے۔ جرمنی میں دریائے رائن، پولینڈ میں وسٹولا اور وسطی یورپ میں ڈینیوب کی کم سطح نے نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں کو متاثر کیا ہے۔

موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں تقریباً 12 کروڑ یورپی باشندے ایسے علاقوں میں رہتے تھے جہاں ریکارڈ گرم ترین موسم رہا۔ جون کی ایک ہیٹ ویو کے دوران نو ممالک میں کم از کم 12 ہزار اضافی اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین