کراچی کے نوجوان تاجر سے متعلق میر رضا کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا علی کا ڈی این اے ان کے والدین سے میچ کرگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کی کیمیکل لیبارٹری نے بھی اپنی رپورٹ متعلقہ ادارے کو جاری کردی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کیمیکل رپورٹ کا ڈی این اے لیبارٹری کی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کی شرٹ کی کیمیائی جانچ مکمل کرلی گئی ہے۔ جانچ کے دوران شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کے شواہد ملنے کی اطلاع ہے، جسے تفتیش میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق میر رضا کے خون کے نمونے میں بے ہوشی کی دوا سے متعلق اجزا بھی پائے گئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم ان شواہد کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کے حالات کا تعین کیا جاسکے۔
میر رضا کی شرٹ پر کمر کے حصے میں گن شارٹ ریزیڈیو یعنی جی ایس آر بھی پایا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق کمر کی جانب جی ایس آر کی زیادہ مقدار اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گولی پیچھے یا کمر کی سمت سے لگی۔
دوسری جانب میر رضا کیس کی تفتیشی ٹیم میں مزید دو ارکان شامل کر دیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی ایس پی سراج الدین اور انسپکٹر محمد علی کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد ٹیم کے ارکان کی تعداد سات ہوگئی ہے۔
سابق تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش ہوکر رپورٹ جمع کرانے کیلئے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 15 اگست تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا، جبکہ نئے تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر پیش ہوں گے۔