وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کی ریڈلائن واضح ہے اور پانی کی ایک ایک بوند ملک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت راہ راست پر نہ آیا تو پاکستان اسے براہ راست جواب دے گا۔
اسلام آباد میں یادگار فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بھارت پر سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
وزیراعظم نے یادگار فتح کو افواج پاکستان کی طاقت اور کامیابی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے معرکہ حق میں افواج پاکستان کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی سے پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔
شہباز شریف نے قومی اتحاد کو پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متحد قوم کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کے پانی کی ریڈلائن کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک اپنے آبی وسائل اور قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اہم قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں خاموش نہیں رہے گا۔
شہباز شریف نے خطے میں پاکستان کے سفارتی کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے ترکیہ کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی علامت قرار دیا۔
وزیراعظم نے فلسطینی عوام اور کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور افغانستان کی حکومت پر زور دیا کہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی۔