سیوتا تارکین وطن بحران

اسپین، مراکش کا سیوتا بارڈر پر سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ

اسپین اور مراکش نے سیوتا کی سرحد پر سکیورٹی سخت کردی ہے، جہاں نئے بڑے پیمانے پر سیوتا تارکین وطن بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر 15 اگست کو تارکین وطن کی جانب سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر سیوتا میں داخل ہونے کی اپیلیں سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک نے اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

یہ اقدام گزشتہ ماہ سیوتا میں تقریباً 72 ہزار تارکین وطن کی غیر معمولی آمد کے بعد کیا گیا ہے۔ میڈرڈ اور رباط حکام آن لائن پیغامات کی نگرانی اور ممکنہ دراندازی روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔

مراکشی وزارت داخلہ کے ترجمان راشد الخفی نے کہا کہ غیر قانونی داخلے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق سرحدی علاقے فنی دق میں بھی سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

اسپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا نے جمعرات کو سیوتا کا دورہ کیا اور سرحدی تنصیبات کا جائزہ لیا۔ حکام نے سمندر میں ایک نئی رکاوٹ بھی قائم کی ہے تاکہ لوگوں کو تیر کر شہر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

سیوتا میں مزید 300 پولیس اہلکار اور 2 ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔ ہسپانوی وزیر داخلہ کے مطابق اقدامات کا مقصد سیوتا اور میلیلا میں غیر قانونی داخلے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جبکہ یورپی ممالک بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ممکنہ سیوتا تارکین وطن بحران نے دیگر یورپی حکومتوں کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ آسٹریا نے اسپین پر سرحدی تحفظ مزید مضبوط کرنے پر زور دیا، جبکہ اٹلی نے اسپین سے آنے والے مسافروں پر سرحدی چیک برقرار رکھنے کے فیصلے میں وسط اگست میں ممکنہ بڑے پیمانے پر آمد کے خدشے کا حوالہ دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین