امریکی اخبار کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد کا عرصہ بڑی جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کیا۔ ایران اسلام آباد ایم او یو جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران طے پایا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سخت گیر قیادت نے اگلے دو ماہ کے دوران فوجی تیاریوں کو مضبوط کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاسداران انقلاب کو باقاعدہ فوج پر مزید کنٹرول دیا گیا۔
اخبار کے مطابق ایران نے عراق جنگ اور سابق داخلی کریک ڈاؤنز کا تجربہ رکھنے والے افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا۔ داخلی انسدادِ انٹیلی جنس کارروائیوں میں بھی توسیع کی گئی۔ میزائل اور ڈرونز کی پیداوار بھی تیز کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ایران نے مبینہ طور پر بحری کارروائیوں میں اضافہ کیا اور تنازع کا دائرہ بحیرہ احمر تک پھیلایا۔ عرب انٹیلی جنس حکام کو مبینہ طور پر وسیع تنازع کی تیاری کے شواہد ملے۔
اس صورتحال نے کویت سمیت بعض خلیجی ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام دشمن کی سرزمین پر کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ مقصد مستقبل میں ایران پر بڑے حملوں کے خطرے کو روکنا بتایا گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اسرائیلی حکام کی تشویش کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اپنے انفراسٹرکچر اور میزائل اڈوں کی بحالی توقعات سے زیادہ تیزی سے کر رہا ہے۔ ایران کے پاس خلیج میں بحری جہازوں اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
رپورٹ نے ایران اسلام آباد ایم او یو کے دوران بظاہر دوہری حکمت عملی کی نشاندہی کی ہے۔ ایک طرف ایرانی سفارت کار امریکا سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھے، جبکہ دوسری جانب سکیورٹی ادارے ممکنہ بڑے تصادم کی تیاری کر رہے تھے۔ ایرانی حکام نے موجودہ مذاکرات کو بڑے تنازع سے قبل عارضی وقفہ بھی قرار دیا ہے۔