آسیان امریکا ایران امن اپیل

آسیان کا امریکا اور ایران سے مستقل امن معاہدے کا مطالبہ

آسیان امریکا ایران امن اپیل اس وقت سامنے آئی جب جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات جاری رکھیں۔

ورچوئل اجلاس میں وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ جنگ بندی کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

آسیان امریکا ایران امن اپیل میں آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کی بھی تاکید کی گئی تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

وزراء نے خبردار کیا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی اور خوراک کی سپلائی چین پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔

آسیان ممالک نے توانائی کی فراہمی کو بحران کے دوران ترجیح دینے اور قیمتوں کے استحکام کے لیے مشترکہ نظام مضبوط بنانے پر زور دیا۔

آسیان امریکا ایران امن اپیل کے تحت چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون بڑھانے اور خوراک کی قلت سے بچاؤ کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزرائے خارجہ کے درمیان فوری رابطہ نظام بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی جبکہ مئی میں ہونے والے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین