ایران چین مذاکرات

ایران کا اہم دورہ چین، خطے کی صورتحال بدلنے کا امکان

ایران چین مذاکرات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چین کے اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیج میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

یہ دورہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد چین کا پہلا دورہ ہے، جس نے عالمی تیل کی فراہمی کو شدید متاثر کیا۔ چین، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس صورتحال سے خاصا متاثر ہوا ہے۔

ایران چین مذاکرات ایک اہم عالمی ملاقات سے قبل ہو رہے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ مئی کے وسط میں بیجنگ میں ملاقات کریں گے۔

امریکا نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرے۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول اس وقت ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے، جہاں بحری کشیدگی اور ناکہ بندی نے عالمی تجارت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکا نے جہازوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کا اعلان کیا تھا، تاہم انہیں عارضی طور پر روک دیا گیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور وہ مذاکرات کے لیے محتاط انداز میں تیار ہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت پر تہران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

چین نے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور امریکا کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ سے گریز کیا ہے۔ ایران چین مذاکرات کا نتیجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین