زیلنسکی روس جنگ بندی یوکرین تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام لگایا کہ روسی افواج نے جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق روس کی جانب سے لڑائی روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آ رہی۔
زیلنسکی نے کہا کہ رات کے وقت روسی فورسز نے یوکرینی پوزیشنز پر مسلسل حملے کیے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماسکو جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق یہ صرف رسمی یا دکھاوے کی کوشش بھی نہیں ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ 8 مئی کی رات سے 10 مئی تک عارضی جنگ بندی کی جائے گی۔ یہ اعلان دوسری جنگ عظیم کی یادگار تقریبات کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔
تاہم زیلنسکی روس جنگ بندی یوکرین صورتحال میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب یوکرین نے اس اعلان کو مسترد کر دیا۔ زیلنسکی نے اس سے قبل 6 مئی سے غیر معینہ جنگ بندی کی تجویز دی تھی، لیکن ان کے مطابق روس نے اس کی بھی خلاف ورزی کی۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ روس امن کے بجائے سیاسی فائدے کے لیے جنگ بندی کے اعلانات کرتا ہے۔ ان کے مطابق زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تنازع مسلسل جاری ہے اور عارضی جنگ بندیوں کے باوجود لڑائی کم نہیں ہو رہی۔ عالمی برادری بار بار مستقل جنگ بندی کی اپیل کر رہی ہے۔
یہ زیلنسکی روس جنگ بندی یوکرین معاملہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے، جس کی وجہ سے امن کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔