پاکستان ایران فوجی کارروائی ٹرمپ بیان نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کی جائے۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے امریکہ سے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
یہ پاکستان ایران فوجی کارروائی ٹرمپ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ جواب میں امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر کارروائی کی۔ ایران نے الزام لگایا کہ جھڑپ کا آغاز امریکہ نے کیا۔
پاکستان ایران فوجی کارروائی ٹرمپ بیان اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور مسلسل تحمل اور مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر گئے اور ایرانی حملوں کا بھرپور جواب دیا گیا۔ ان کے مطابق امریکی کارروائی میں ایران کو نقصان پہنچا۔
یہ پاکستان ایران فوجی کارروائی ٹرمپ بیان خطے کی پیچیدہ صورتحال کو ظاہر کرتا ہے جہاں سفارتکاری اور عسکری کشیدگی ایک ساتھ جاری ہیں اور امن کی کوششیں ابھی غیر یقینی ہیں۔