امریکہ ایران خلیجی جھڑپیں

جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکہ میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی

حالیہ امریکہ ایران خلیجی جھڑپیں مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گئی ہیں، حالانکہ گزشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی اور خلیجی ممالک کے قریب میزائل سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ تازہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران اب بھی مستقل امن معاہدے سے دور ہیں۔

علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ ایرانی خبر رساں اداروں نے وقفے وقفے سے بحری جھڑپوں کی اطلاع دی جبکہ امریکی فوج نے ایران سے منسلک بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کی۔ اس صورتحال نے عالمی تیل تجارت کے اہم راستے پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق ایک سیکیورٹی واقعے کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی خطرات کو ناکام بنایا جبکہ چند افراد زخمی ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی علامت ہیں۔

سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ تہران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے تاکہ جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے پیش کی گئی تجویز پر پیش رفت ہو سکے۔ بعد ازاں مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی جیسے حساس معاملات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ ایران خلیجی جھڑپیں عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی بڑی تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد غیر ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بحری سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکی حکام نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق بعض افراد اور کمپنیوں پر ایرانی ڈرون پروگرام کے لیے مواد فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ان پابندیوں میں چین اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک سفارتی حل کی بات کر رہے ہیں، تاہم امریکہ ایران خلیجی جھڑپیں اب بھی خطے میں بے یقینی پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات ناکام رہے تو مزید فوجی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس وقت جنگ بندی برقرار ہے لیکن صورتحال بدستور نازک سمجھی جا رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین